Home » کریں گر ہم بھی اس ہرجائ سے بےوفائ(Karen gir hum bhi is harjai se bewafai)

کریں گر ہم بھی اس ہرجائ سے بےوفائ
(Karen gir hum bhi is harjai se bewafai)

خشک پتوں کی اپنے ہی شجر پے جگہ کہاں ہے
ٹوٹ کے جو بکھریں تو پھر بسنے کی تمنا کہاں ہے

ہوا کے سنگ جو اڑ جایئں تو پھر لوٹنے کی را ہ کہاں ہے
شجر بھی گر اپنا نہیں تو پھر زمیں پر اپنی جا کہاں ہے

بعد وفا کے گر ملے جفا تو پھر وفا کی جزا کہاں ہے
کرے جو یوں بے وفائ تو پھر اسکی سزا کہاں ہے

کوئ بتلا دے ہم کو یعد محبت عداوت کی انتہا کہاں ہے
کریں گرہم بھی اس ہرجائ سے بے وفائ تو اپنی جا کہاں ہے

Post: Darakhshanda

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *